اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے آخری دو سال کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف توانائی شعبے بالخصوص تیل پر سخت پابندیاں عائد کی مگر اب ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک کم کرنے کی حکمت عملی کو حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور حکومت کے حوالے کرنے کے موقع پر اس سے ہونے والے نقصانات پر سیاسی عزائم کے ساتھ جوڑ توڑ کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس کے حکام نے ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک کم کرنے کی پالیسی کے ادراک یا ناکامی پر بات کرنے کے بجائے ایران کو ہونے والے نقصان کی مقدار پر توجہ دی ہے۔
حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کے ساتھ 70 ارب ڈالر تک ایرانی تیل کی آمدنی کو نقصان پہنچایا ہے۔
ٹرمپ کی اس نعرے کو پورا کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں محکمہ خارجہ کی بہت سی اہم شخصیات سمیت امریکی نمائندے برائے ایران کے امور "برایان ہوک" کو برخاست کردیا گیا جس شخص کو پابندیوں کو سخت کرنے اور ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک کم کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔
اگرچہ ایک اور نقطہ نظر سے ایرانی تیل پر پابندیوں نے تہران کے لئے مختلف مواقع پیش کیے اور اسے تیل پر انحصار کرنے سے آزاد کیا مگر اس نے خود ٹرمپ انتظامیہ کے غیر انسانی سلوک کی نشاندہی کی، اس طرز عمل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے "معاشی دہشت گردی" کہا تھا۔
ایرانی صدر مملکت حسن روحانی نے رواں سال کے ستمبر میں اس بات پر زور دیا کہ امریکیوں نے 2018 سے 2020 تک غلطی، غیر قانونی، گمراہی اور انسانیت سوز پابندیوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں سے کم سے کم 150 ارب ڈالر کا نقصان کیا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے ایران میں دوائی ، علاج اور کھانے کی منتقلی کو بھی روکا ، اور ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں ہم نے اس ظلم کے ساتھ وہائٹ ہاؤس میں کبھی نہیں دیکھا۔
ٹرمپ کا امریکہ پابندیوں کے تحت ایران کے خلاف معاشی قتل و غارت گری کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ایران کو انسانی ہمدردی اور دواسازی کی اشیا کی برآمد کے لئے واضح طور پر ایک استثناء دیتا ہے لیکن بینکنگ نیٹ ورک پر پابندیوں کی وجہ سے ایران اس سلسلے میں پابندیوں کا شکار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲